Font by Mehr Nastaliq Web

پھر جھوٹے آسروں میں مزا پا رہا ہوں میں

اسراراللہ شاہ غوثی

پھر جھوٹے آسروں میں مزا پا رہا ہوں میں

اسراراللہ شاہ غوثی

MORE BYاسراراللہ شاہ غوثی

    پھر جھوٹے آسروں میں مزا پا رہا ہوں میں

    سو دھوکے جان بوجھ کے پھر کھا رہا ہوں میں

    پھر دل سے ہوگئی میری باتیں وہی شروع

    سمجھا رہا ہے وہ کبھی سمھا رہا ہوں میں

    پھر رات رات بھر وہی باتیں ہیں چاند سے

    اور جذبِ چاندنی میں ہوا جا رہا ہوں میں

    شانے پہ میرے بکھری ہوئی ہے پھر ان کی زلف

    اور انگلیوں سے پھر اسے سلجھا رہا ہوں میں

    شیریں خیال یوں ہی میں ہے لطفِ زندگی

    جب اصلیت کو تلخ بہت پا رہا ہوں میں

    تنہائیوں میں غیر کے کھٹکے کا طرفہ لطف

    گھبرا رہے ہیں وہ کبھی گھبرا رہا ہوں میں

    آئی نہیں سمجھ میں کوئی بات ایسی خاص

    بس ایک فرطِ شوق سے گھبرا رہا ہوں میں

    جس راہ میں کہ خضر کو بھی عذرِ لنگ ہو

    شل پاؤں ہیں تو سینے کے بل جا رہا ہوں میں

    منزل کا ہے پتہ نہ نشاں کارواں کا ہے

    ہمدمؔ بتاؤں کیا کہ کہیں جا رہا ہوں میں

    مأخذ :
    • کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 58)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے