پھر جھوٹے آسروں میں مزا پا رہا ہوں میں
پھر جھوٹے آسروں میں مزا پا رہا ہوں میں
سو دھوکے جان بوجھ کے پھر کھا رہا ہوں میں
پھر دل سے ہوگئی میری باتیں وہی شروع
سمجھا رہا ہے وہ کبھی سمھا رہا ہوں میں
پھر رات رات بھر وہی باتیں ہیں چاند سے
اور جذبِ چاندنی میں ہوا جا رہا ہوں میں
شانے پہ میرے بکھری ہوئی ہے پھر ان کی زلف
اور انگلیوں سے پھر اسے سلجھا رہا ہوں میں
شیریں خیال یوں ہی میں ہے لطفِ زندگی
جب اصلیت کو تلخ بہت پا رہا ہوں میں
تنہائیوں میں غیر کے کھٹکے کا طرفہ لطف
گھبرا رہے ہیں وہ کبھی گھبرا رہا ہوں میں
آئی نہیں سمجھ میں کوئی بات ایسی خاص
بس ایک فرطِ شوق سے گھبرا رہا ہوں میں
جس راہ میں کہ خضر کو بھی عذرِ لنگ ہو
شل پاؤں ہیں تو سینے کے بل جا رہا ہوں میں
منزل کا ہے پتہ نہ نشاں کارواں کا ہے
ہمدمؔ بتاؤں کیا کہ کہیں جا رہا ہوں میں
- کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 58)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.