Font by Mehr Nastaliq Web

شکوہ کرو نہ یار کا کچھ بھی گلہ کرو

اسراراللہ شاہ غوثی

شکوہ کرو نہ یار کا کچھ بھی گلہ کرو

اسراراللہ شاہ غوثی

MORE BYاسراراللہ شاہ غوثی

    شکوہ کرو نہ یار کا کچھ بھی گلہ کرو

    فرقت کے رنج ہجر کے صدمے سہا کرو

    بن کر فقیر حق محبت ادا کرو

    چل کر کسی حسین کے در پہ صدا کرو

    تلچھٹ کو دیکھو اور نہ صہبائے صاف کو

    ساقی جو کچھ پلائے خوشی سے پیا کرو

    کچھ سجدہ گاہ کی نہ مصلے کی احتیاج

    نقشِ قدم پہ یار کے سجہد ادا کرو

    کوچے میں مٹ کے یار کے نقشِ قدم بنو

    لطفِ بقا ملے گا جو خود کو فنا کرو

    خواہش ہے دل میں دید رخِ یا کی مگر

    پہلے تم اپنا آئینۂ دل صفا کرو

    ہمدمؔ کہیں نظر نہ لگے حسن و ناز کو

    آنچل سے رخ پہ آسرا اپنے ذرا کرو

    مأخذ :
    • کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 59)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے