شکوہ کرو نہ یار کا کچھ بھی گلہ کرو
شکوہ کرو نہ یار کا کچھ بھی گلہ کرو
فرقت کے رنج ہجر کے صدمے سہا کرو
بن کر فقیر حق محبت ادا کرو
چل کر کسی حسین کے در پہ صدا کرو
تلچھٹ کو دیکھو اور نہ صہبائے صاف کو
ساقی جو کچھ پلائے خوشی سے پیا کرو
کچھ سجدہ گاہ کی نہ مصلے کی احتیاج
نقشِ قدم پہ یار کے سجہد ادا کرو
کوچے میں مٹ کے یار کے نقشِ قدم بنو
لطفِ بقا ملے گا جو خود کو فنا کرو
خواہش ہے دل میں دید رخِ یا کی مگر
پہلے تم اپنا آئینۂ دل صفا کرو
ہمدمؔ کہیں نظر نہ لگے حسن و ناز کو
آنچل سے رخ پہ آسرا اپنے ذرا کرو
- کتاب : حقیقتِ توحید (Pg. 59)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.