Font by Mehr Nastaliq Web

قتل سے میرے نہ ہاتھ اے قاتلِ خونخوار کھینچ

عطا حسین

قتل سے میرے نہ ہاتھ اے قاتلِ خونخوار کھینچ

عطا حسین

MORE BYعطا حسین

    قتل سے میرے نہ ہاتھ اے قاتلِ خونخوار کھینچ

    سر جھکائے ہوں میں بسم اللہ لے تلوار کھینچ

    آج کل رندوں نے آپس میں کیا ہے مشورہ

    واعظوں کے سر سے چپکے لیجیے دستار کھینچ

    دے مرے دل کی کشش کو یا الٰہی یہ اثر

    غیر کے پہلو سے لاؤں میں انہیں اک بار کھینچ

    یہ زلیخا کا تقاضا تھا کہ ہاں اے جذب ِعشق

    خلوتِ کنعاں سے یوسف کو سرِ بازار کھینچ

    پھر جنوں کا زور میرے بڑھ گیا ہے ان دنوں

    لائی ہے وحشت مجھے پھر جانب کہسار کھیچ

    ہے ابھی واقف کہاں شرک خفی کے رمز سے

    پہلے سبحہ سے تو اپنے زاہدا زنار کھینچ

    کھینچے تصویر صنم مانی کی یہ طاقت کہاں

    اے تصور تو مصور بن شبیہ یار کھینچ

    نیند آنےکی شب فرقت ہے لا حاصل امید

    انتظار خواب مرگ اے دیدۂ بیدار کھینچ

    وصل کے طالب سے یوں کہتا ہے وہ رشک مسیح

    ایک مدت اور بھی تو ہجر کا آزار کھینچ

    ہے مصیبت میں پڑا اب تو عطاؔ یا شاہ دیں

    غم کے دریا سے اسے لو سید ابرار کھینچ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے