قتل سے میرے نہ ہاتھ اے قاتلِ خونخوار کھینچ
قتل سے میرے نہ ہاتھ اے قاتلِ خونخوار کھینچ
سر جھکائے ہوں میں بسم اللہ لے تلوار کھینچ
آج کل رندوں نے آپس میں کیا ہے مشورہ
واعظوں کے سر سے چپکے لیجیے دستار کھینچ
دے مرے دل کی کشش کو یا الٰہی یہ اثر
غیر کے پہلو سے لاؤں میں انہیں اک بار کھینچ
یہ زلیخا کا تقاضا تھا کہ ہاں اے جذب ِعشق
خلوتِ کنعاں سے یوسف کو سرِ بازار کھینچ
پھر جنوں کا زور میرے بڑھ گیا ہے ان دنوں
لائی ہے وحشت مجھے پھر جانب کہسار کھیچ
ہے ابھی واقف کہاں شرک خفی کے رمز سے
پہلے سبحہ سے تو اپنے زاہدا زنار کھینچ
کھینچے تصویر صنم مانی کی یہ طاقت کہاں
اے تصور تو مصور بن شبیہ یار کھینچ
نیند آنےکی شب فرقت ہے لا حاصل امید
انتظار خواب مرگ اے دیدۂ بیدار کھینچ
وصل کے طالب سے یوں کہتا ہے وہ رشک مسیح
ایک مدت اور بھی تو ہجر کا آزار کھینچ
ہے مصیبت میں پڑا اب تو عطاؔ یا شاہ دیں
غم کے دریا سے اسے لو سید ابرار کھینچ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.