Font by Mehr Nastaliq Web

قدرت کے باغ سبز میں بان عقل دنگ ہے

عطا حسین

قدرت کے باغ سبز میں بان عقل دنگ ہے

عطا حسین

MORE BYعطا حسین

    قدرت کے باغ سبز میں بان عقل دنگ ہے

    جس گل میں دیکھتا ہوں نیا ایک رنگ سے

    قالب میں جان ہجر کے صدموں سے سنگ ہے

    جھگڑا اجل سے موت سے ہر وقت جنگ ہے

    انساں کا دل خدا نہ کرے پر غبار ہو

    آئینہ رونما نہیں جس میں کہ زنگ ہے

    لوہا تمہارا مان گئے ہم بھی مرتے دم

    ترچھی نظر میں تیغ دو پیکر کا ڈھنگ ہے

    دو دن کی زندگی میں کہو کوئی کیا کرے

    فرصت قلیل کام بہت وقت تنگ ہے

    بچنا غریق بحر محبت کا ہے محال

    ہر موج اس محیط میں کام نہنگ ہے

    اشعار میں عطاؔ تیرےاسرار ہیں بھرے

    مضموں بندھے وسیع زمیں گرچہ تنگ ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے