قدرت کے باغ سبز میں بان عقل دنگ ہے
قدرت کے باغ سبز میں بان عقل دنگ ہے
جس گل میں دیکھتا ہوں نیا ایک رنگ سے
قالب میں جان ہجر کے صدموں سے سنگ ہے
جھگڑا اجل سے موت سے ہر وقت جنگ ہے
انساں کا دل خدا نہ کرے پر غبار ہو
آئینہ رونما نہیں جس میں کہ زنگ ہے
لوہا تمہارا مان گئے ہم بھی مرتے دم
ترچھی نظر میں تیغ دو پیکر کا ڈھنگ ہے
دو دن کی زندگی میں کہو کوئی کیا کرے
فرصت قلیل کام بہت وقت تنگ ہے
بچنا غریق بحر محبت کا ہے محال
ہر موج اس محیط میں کام نہنگ ہے
اشعار میں عطاؔ تیرےاسرار ہیں بھرے
مضموں بندھے وسیع زمیں گرچہ تنگ ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.