بیتاب ہو قالب میں نہ کیوں جان حزیں آج
بیتاب ہو قالب میں نہ کیوں جان حزیں آج
دل ڈھونڈتا ہے جس کو وہ پہلو میں نہیں آج
آئے ہو بہت روز پہ اے ماہ جبیں آج
شب بھر تو بھلا کیجیے آرام یہیں آج
ہونا ہے تہِ خاک تجھے کل خورش مور
ہو ملک سلیماں بھی اگر زیر نگیں آج
باتوں ہی میں پھر رات کٹی جاتی ہے صاحب
ڈرتا ہوں کہ ہو جائے نہ پھر صبح کہیں آج
حیرت زدۂ جلوۂ رخسار سمجھ کر
آئینہ پہ وہ شوخ ہوا چیں بچیں آج
جس کی کہ تمنا تھی مرے دیدہ و دل کو
پہلو میں مرے بیٹھا ہے وہ پردہ نشیں آج
کل بھی تو اسی طرح سے تھا آج کا وعدہ
کیوں کر ہو مجھے وعدۂ فردا کا یقیں آج
واپس جو دلانامہ برِ یار نہ آیا
آتا ہے کوئی دم میں دم بار پسیں آج
آگے مرے غیروں سے نہ کر وعدہ فردا
ڈرتا ہوں کہ ہو جائے قیامت نہ کہیں آج
قائم صد و سی سال رہو روئے زمیں پر
عاشق کا جنازہ تو کرو زیر زمیں آج
مرتا ہے عطاؔ ہند میں یا احمد مختار
بطحیٰ میں بلا لو اسے شاہنشہ دیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.