Font by Mehr Nastaliq Web

بیتاب ہو قالب میں نہ کیوں جان حزیں آج

عطا حسین

بیتاب ہو قالب میں نہ کیوں جان حزیں آج

عطا حسین

MORE BYعطا حسین

    بیتاب ہو قالب میں نہ کیوں جان حزیں آج

    دل ڈھونڈتا ہے جس کو وہ پہلو میں نہیں آج

    آئے ہو بہت روز پہ اے ماہ جبیں آج

    شب بھر تو بھلا کیجیے آرام یہیں آج

    ہونا ہے تہِ خاک تجھے کل خورش مور

    ہو ملک سلیماں بھی اگر زیر نگیں آج

    باتوں ہی میں پھر رات کٹی جاتی ہے صاحب

    ڈرتا ہوں کہ ہو جائے نہ پھر صبح کہیں آج

    حیرت زدۂ جلوۂ رخسار سمجھ کر

    آئینہ پہ وہ شوخ ہوا چیں بچیں آج

    جس کی کہ تمنا تھی مرے دیدہ و دل کو

    پہلو میں مرے بیٹھا ہے وہ پردہ نشیں آج

    کل بھی تو اسی طرح سے تھا آج کا وعدہ

    کیوں کر ہو مجھے وعدۂ فردا کا یقیں آج

    واپس جو دلانامہ برِ یار نہ آیا

    آتا ہے کوئی دم میں دم بار پسیں آج

    آگے مرے غیروں سے نہ کر وعدہ فردا

    ڈرتا ہوں کہ ہو جائے قیامت نہ کہیں آج

    قائم صد و سی سال رہو روئے زمیں پر

    عاشق کا جنازہ تو کرو زیر زمیں آج

    مرتا ہے عطاؔ ہند میں یا احمد مختار

    بطحیٰ میں بلا لو اسے شاہنشہ دیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے