Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

چلے ہیں گیسو سنوار کر وہ کہیں قیامت بپا کریں گے

اوگھٹ شاہ وارثی

چلے ہیں گیسو سنوار کر وہ کہیں قیامت بپا کریں گے

اوگھٹ شاہ وارثی

چلے ہیں گیسو سنوار کر وہ کہیں قیامت بپا کریں گے

کسی ہمارے سے بے خطا کو اسیر زلف دوتا کریں گے

بتوں سے واقف ہوں سنگ دل ہیں کبھی نہ خوف خدا کریں گے

غرض کہ بندے ہیں بے مروت یہ جب کریں گے دغا کریں گے

مریض الفت ہوں چارہ‌ سازو اٹھاؤ ہاتھ اب خدا پہ چھوڑو

لبوں پہ دم آیا درد دل کی طبیب اب کیا دوا کریں گے

یہ مانا خوش رو ہیں بے وفا بھی شعار جور و ستم ہے ان کا

مگر جو دل ہی نہ دیں گے ان کو تو پھر ہمارا یہ کیا کریں گے

وہاں ہمیں کس کا خوف ہوگا خیال آیا تو دیکھ لینا

سنیں گے یوں سب بتوں کا شکوہ خدا سے روز جزا کریں گے

بدل کے بھیس اپنا اس کی محفل میں شب کو اس واسطے چلیں گے

کہ چپکے غیروں کے پیچھے بیٹھے ہم ان کی باتیں سنا کریں گے

بتوں کو اب یوں جلائیں گے ہم کریں گے ان کا لحاظ کب تک

انہیں دکھا کر انہی کے آگے ہمیشہ یاد خدا کریں گے

کیا ہے یہ عہد ان حسینوں کو دیں گے سو بار دین و ایماں

خدا کی قسم کسی کو بھی نہ اب دل دیا کریں گے

سنا ہے اسلام چھوڑ دیں گے بتوں کی خاطر جناب اوگھٹؔ

یہ بات اچھی نہیں ہے اگر ایسا کریں گے برا کریں گے

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے