ہو گلہ ضعف دست پائی کا
یا کہ آہوں کی نا رسائی کا
دل دھڑکتا ہے ہوش اڑتے ہیں
نام مت لیجیے جدائی کا
لیجیے خنجر گلا بھی حاضر ہے
حال پر دیکھیے کلائی کا
آئینہ دیکھ کر ہوئے حیراں
جن کو دعویٰ تھا ایکتائی کا
اشک بے ساختہ نکل آئے
ذکر جب آگیا جدائی کا
آج وہ ہیں کہاں حسین جہاں
جن کو غرہ تھا دلربائی کا
ضعف نے یوں کیا عزیزؔ نحیف
بن گیا نقش چار پائی کا
- کتاب : sukhanwaran-e-qasaba-e-kada (Pg. 249)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.