لگا درد جگر چھپ چھپ کے دینے کام نشتر کا
لگا درد جگر چھپ چھپ کے دینے کام نشتر کا
بہا خونِ جگر ہو کر کے آنسو دیدۂ تر کا
عبث الزام کشتوں پر ہے داغِ خونِ احمر کا
ہمارے خوں نے دھو ڈالا غبار آج اس کے خنجر کا
ذرا آکر کے دیکھو تو تماشہ دیدۂ تر کا
نہ دیکھا ہو جو کشتی سے کبھی بہنا سمندر کا
لگاؤ شوق سے تم وار پر وار اپنے خنجر کا
دہانِ زخم کو لطف آئے ہے قندِ مکرر کا
ہوا محو تصور یوں بنا تصویرِ حیرانی
کھلی ہے آنکھ اختر میں بنا ہے جسم پتھر کا
میرے نالوں نے پہنچائی تعشق کی خبر ان تک
نکالا کام آہوں نے مرے بالِ کبوتر کا
کیا گم اپنی ہستی کو ترے ظلماتِ گیسو میں
نہیں بے جا اگر دعویٰ کروں بخت سکندر کا
تجسس میں کسی کے روح پہنچی تابہ علیین
ذرا دیکھیے کوئی اڑنا مرے اس مرغ بے پر کا
حسینانِ جہاں میں ہی کسی کی ہے جھلک آتی
عیاں ذرہ سے ہوتا ہے سراسر نور خاور کا
یہ مقصد تھا کہ ماتم کشتۂ گل کا کرے بلبل
چڑھانا تھا عبث کیا قبر پر پھولوں کی چادر کا
چلے تھے تشنۂ دیدار کچھ کہنے کو مقتل میں
یہ کیا سمجھے تھے ہووے گا گلو گیر آب خنجر کا
عزیزؔ اک اور ہی بت کا دکھائیں گے تمیں جلوہ
ذرا آئے تو قسمت سے ہمارے روز محشر کا
- کتاب : sukhanwaran-e-qasaba-e-kada (Pg. 248)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.