Font by Mehr Nastaliq Web

جب تک جمال یار کا آنکھوں میں نور تھا

عزیز حسن

جب تک جمال یار کا آنکھوں میں نور تھا

عزیز حسن

MORE BYعزیز حسن

    جب تک جمال یار کا آنکھوں میں نور تھا

    ذرے پہ بھی نظر جو پڑی کوہ طور تھا

    ہم دیکھتے ہیں جلوۂ برق جمال دوست

    غش کھانے کو کلیم تھی جلنے کو طور تھا

    تیرے ہی عفو رحم نے ترغیب دی مجھے

    یعنی اگر قصور کیا کیا قصور تھا

    افسوس ہے وہ دوست عدو ہوگیا مرا

    جس پر ہمیشہ ناز تھا جس پر غرور تھا

    بلبل میں گل میں شمع میں پروانہ میں عزیزؔ

    دیکھا جو غور سے تو اُسی کا ظہور تھا

    مأخذ :
    • کتاب : sukhanwaran-e-qasaba-e-kada (Pg. 253)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے