جب تک جمال یار کا آنکھوں میں نور تھا
جب تک جمال یار کا آنکھوں میں نور تھا
ذرے پہ بھی نظر جو پڑی کوہ طور تھا
ہم دیکھتے ہیں جلوۂ برق جمال دوست
غش کھانے کو کلیم تھی جلنے کو طور تھا
تیرے ہی عفو رحم نے ترغیب دی مجھے
یعنی اگر قصور کیا کیا قصور تھا
افسوس ہے وہ دوست عدو ہوگیا مرا
جس پر ہمیشہ ناز تھا جس پر غرور تھا
بلبل میں گل میں شمع میں پروانہ میں عزیزؔ
دیکھا جو غور سے تو اُسی کا ظہور تھا
- کتاب : sukhanwaran-e-qasaba-e-kada (Pg. 253)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.