کہتاہے کوئی بت کوئی کہتا ہے خدا ہو
کہتاہے کوئی بت کوئی کہتا ہے خدا ہو
اب پر دہ اٹھادو تمہیں دیکھیں بھی تو کیا ہو
اس پردہ نشینی میں تو ہو فتنہ عالم
گر سامنے آ جاؤ تو کیا جانیے کیا ہو
کس یاس سے پلٹی ہوئی آتی ہے فلک سے
تیری ہی کہیں اے دل مضطر نہ دعا ہو
جو تم سے کوئی مانگے اسے دے دو اگر تم
بت کاہے کو کہلاؤ سبھی سمجھیں خدا ہو
رحمت نے تو اکرام کا اقرار کیا ہے
یہ اپنی خطا ہے نہ اگر کوئی خطا ہو
رو دیتے ہیں وہ سن کے مرا حال مصیبت
ہاں دیکھ کمی اب نہ کوئی آہ رسا ہو
مقبول عزیزؔ اب تو ہو صدقہ میں تمہارے
تم خاص خداوند ہو محبوب خدا ہو
- کتاب : sukhanwaran-e-qasaba-e-kada (Pg. 253)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.