Font by Mehr Nastaliq Web

غمزوں کی جان اصل میں تیری کمان ہے

عزیز وارثی دہلوی

غمزوں کی جان اصل میں تیری کمان ہے

عزیز وارثی دہلوی

MORE BYعزیز وارثی دہلوی

    دلچسپ معلومات

    نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "اے غمزہ زن کہ تیر جفا در کمانِ تست" کا اردو منظوم ترجمہ۔

    غمزوں کی جان اصل میں تیری کمان ہے

    تیری کمان ہی تو مرے دل کی جان ہے

    خالِ سیاہ تیرے رخِ سرخ پر نہیں

    میری شرارہ بار فغاں کا نشان ہے

    مارو مجھے پھر اپنے کرم سے جلا بھی دو

    یہ میری جان کیا ہے تمہاری ہی جان ہے

    خسرو کی آہ و زاری سے نالاں نہ ہو کہ وہ

    قمری ہے تیری کوچہ ترا بوستان ہے

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 139)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے