غمزوں کی جان اصل میں تیری کمان ہے
دلچسپ معلومات
نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "اے غمزہ زن کہ تیر جفا در کمانِ تست" کا اردو منظوم ترجمہ۔
غمزوں کی جان اصل میں تیری کمان ہے
تیری کمان ہی تو مرے دل کی جان ہے
خالِ سیاہ تیرے رخِ سرخ پر نہیں
میری شرارہ بار فغاں کا نشان ہے
مارو مجھے پھر اپنے کرم سے جلا بھی دو
یہ میری جان کیا ہے تمہاری ہی جان ہے
خسرو کی آہ و زاری سے نالاں نہ ہو کہ وہ
قمری ہے تیری کوچہ ترا بوستان ہے
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 139)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.