Font by Mehr Nastaliq Web

آنکھیں تری غمزے سے ہشیار نہیں ہوں گی

عزیز وارثی دہلوی

آنکھیں تری غمزے سے ہشیار نہیں ہوں گی

عزیز وارثی دہلوی

MORE BYعزیز وارثی دہلوی

    دلچسپ معلومات

    نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "چشمت گہے از غمزہ ہشیار نہ خواہد شد" کا اردو منظوم ترجمہ۔

    آنکھیں تری غمزے سے ہشیار نہیں ہوں گی

    اس دل کی خراشیں بھی بے خار نہیں ہوں گی

    یہ تیر صفت مژگاں یہ تیغ صفت نظریں

    بیمار محبت کی غم خوار نہیں ہوں گی

    ہیں تیری ادائیں جو قاتل تو زہے قسمت

    خوش ہوں کہ ادائیں یہ بیکار نہیں ہوں گی

    افتاد پڑے پیہم اور رنج مسلسل ہو

    مہتاب کو تنویریں افگار نہیں ہوں گی

    خسرو ترے مستوں کی سرشار جو آنکھیں ہیں

    مستی میں قیامت تک ہشیار نہیں ہوں گی

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 143)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے