آنکھیں تری غمزے سے ہشیار نہیں ہوں گی
دلچسپ معلومات
نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "چشمت گہے از غمزہ ہشیار نہ خواہد شد" کا اردو منظوم ترجمہ۔
آنکھیں تری غمزے سے ہشیار نہیں ہوں گی
اس دل کی خراشیں بھی بے خار نہیں ہوں گی
یہ تیر صفت مژگاں یہ تیغ صفت نظریں
بیمار محبت کی غم خوار نہیں ہوں گی
ہیں تیری ادائیں جو قاتل تو زہے قسمت
خوش ہوں کہ ادائیں یہ بیکار نہیں ہوں گی
افتاد پڑے پیہم اور رنج مسلسل ہو
مہتاب کو تنویریں افگار نہیں ہوں گی
خسرو ترے مستوں کی سرشار جو آنکھیں ہیں
مستی میں قیامت تک ہشیار نہیں ہوں گی
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 143)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.