آرام نہیں چین نہیں صبر نہیں آج
آرام نہیں چین نہیں صبر نہیں آج
بس خاتمہ بالخیر ہے اے جان حزیں آج
پہلو میں نہیں ہے مرے وہ پردہ نشیں آج
گھبرا کے نکل آئے نہ دم اپنا کہیں آج
امید شفا کی ہے نہ جینے کا یقیں آج
آئیں گے نہیں وہ تو سدھاریں گے ہمیں آج
گھر خانہ بدوشوں کا نہیں ہے کوئی مخصوص
بالائے فلک رہ گئے کل زیر زمیں آج
جب چل نہ سکے خود تو چڑھے چار کے کاندھے
یوں پہنچے ہیں ہم منزل اول کے قریں آج
مٹ جائے گا کل نام نشاں تک نہ رہے گا
کالا نہ کرے حرص سے منھ اپنا نگیں آج
رفعت ہے یہ کیا کون سی منزل ہے الٰہی
اک دانۂ خر دل نظر آتی ہے زمیں آج
کل تک جنہیں ہم چیں بہ جبیں دیکھتے تھے گرمؔ
صورت مٹی ان کی کہ چیں ہے نہ جبیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.