Font by Mehr Nastaliq Web

آرام نہیں چین نہیں صبر نہیں آج

بشیرالحق گرم

آرام نہیں چین نہیں صبر نہیں آج

بشیرالحق گرم

MORE BYبشیرالحق گرم

    آرام نہیں چین نہیں صبر نہیں آج

    بس خاتمہ بالخیر ہے اے جان حزیں آج

    پہلو میں نہیں ہے مرے وہ پردہ نشیں آج

    گھبرا کے نکل آئے نہ دم اپنا کہیں آج

    امید شفا کی ہے نہ جینے کا یقیں آج

    آئیں گے نہیں وہ تو سدھاریں گے ہمیں آج

    گھر خانہ بدوشوں کا نہیں ہے کوئی مخصوص

    بالائے فلک رہ گئے کل زیر زمیں آج

    جب چل نہ سکے خود تو چڑھے چار کے کاندھے

    یوں پہنچے ہیں ہم منزل اول کے قریں آج

    مٹ جائے گا کل نام نشاں تک نہ رہے گا

    کالا نہ کرے حرص سے منھ اپنا نگیں آج

    رفعت ہے یہ کیا کون سی منزل ہے الٰہی

    اک دانۂ خر دل نظر آتی ہے زمیں آج

    کل تک جنہیں ہم چیں بہ جبیں دیکھتے تھے گرمؔ

    صورت مٹی ان کی کہ چیں ہے نہ جبیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے