Font by Mehr Nastaliq Web

تیرہ بختی کی شب بسر نہ ہوئی

بزم اکبرآبادی

تیرہ بختی کی شب بسر نہ ہوئی

بزم اکبرآبادی

MORE BYبزم اکبرآبادی

    تیرہ بختی کی شب بسر نہ ہوئی

    دوسری رات عمر بھر نہ ہوئی

    پس گیا کون کچھ خبر نہ ہوئی

    کبھی نیچی تیری نظر نہ ہوئی

    یار کی دید عمر بھر نہ ہوئی

    آنکھ شرمندۂ نظر نہ ہوئی

    وعدۂ جلوہ کب ہوا پورا

    جس کے دن تم تھے وہ سحر نہ ہوئی

    بے خودوں کو کسی کی کیا پرواہ

    تم بھی آئے ہمیں خبر نہ ہوئی

    حال کھلتا مرا کسی پر کیا

    مجھ سے واقف مری خبر نہ ہوئی

    چھپ کے یوں ہم نے جان دی تجھ پر

    کہ فرشتوں کو بھی خبر نہ ہوئی

    تو جو اے مہر نیم روز نہ تھا

    حشر کے دن کی دوپہر نہ ہوئی

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 411)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے