تیرہ بختی کی شب بسر نہ ہوئی
تیرہ بختی کی شب بسر نہ ہوئی
دوسری رات عمر بھر نہ ہوئی
پس گیا کون کچھ خبر نہ ہوئی
کبھی نیچی تیری نظر نہ ہوئی
یار کی دید عمر بھر نہ ہوئی
آنکھ شرمندۂ نظر نہ ہوئی
وعدۂ جلوہ کب ہوا پورا
جس کے دن تم تھے وہ سحر نہ ہوئی
بے خودوں کو کسی کی کیا پرواہ
تم بھی آئے ہمیں خبر نہ ہوئی
حال کھلتا مرا کسی پر کیا
مجھ سے واقف مری خبر نہ ہوئی
چھپ کے یوں ہم نے جان دی تجھ پر
کہ فرشتوں کو بھی خبر نہ ہوئی
تو جو اے مہر نیم روز نہ تھا
حشر کے دن کی دوپہر نہ ہوئی
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 411)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.