دل کے داغوں کے چمکنے سے ہوا روشن نام
دل کے داغوں کے چمکنے سے ہوا روشن نام
حیرت انگیز جہاں میں مری رسوائی ہے
پھٹ گیا قلبِ حزیں چوٹ کہیں کھائی ہے
بائیں جانب سے مجھے خون کی بو آئی ہے
گفتگو کی کسی معشوق سے ٹھہرائی ہے
ہوش موسیٰ کی نہیں بات جو بن آئی ہے
سیر سب خلق ہو نیت نہ بھرے گی میری
دن ہی بھر کی تو تری انجمن آرئی ہے
یاں بھی تو جان کے دو دو ہیں فرشتے موجود
کون کہتا ہے کہاں قبر میں تنہائی ہے
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 415)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.