Font by Mehr Nastaliq Web

دل کے داغوں کے چمکنے سے ہوا روشن نام

بزم اکبرآبادی

دل کے داغوں کے چمکنے سے ہوا روشن نام

بزم اکبرآبادی

MORE BYبزم اکبرآبادی

    دل کے داغوں کے چمکنے سے ہوا روشن نام

    حیرت انگیز جہاں میں مری رسوائی ہے

    پھٹ گیا قلبِ حزیں چوٹ کہیں کھائی ہے

    بائیں جانب سے مجھے خون کی بو آئی ہے

    گفتگو کی کسی معشوق سے ٹھہرائی ہے

    ہوش موسیٰ کی نہیں بات جو بن آئی ہے

    سیر سب خلق ہو نیت نہ بھرے گی میری

    دن ہی بھر کی تو تری انجمن آرئی ہے

    یاں بھی تو جان کے دو دو ہیں فرشتے موجود

    کون کہتا ہے کہاں قبر میں تنہائی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 415)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے