یہ نظر آتا ہے دردِ زیست کا حاصل مجھے
یہ نظر آتا ہے دردِ زیست کا حاصل مجھے
زندگی کردے گی اک دن موت کے قابل مجھے
موت کے ہاتھوں پیام آیا ہے بزمِؔ ناز سے
پھر بلاتے ہیں سمجھ کر رونق محفل مجھے
ان کا جلوہ تھا کہ اقرارِ محبت لے لیا
ورنہ اس دنیا میں ہوتا ادعائے دل مجھے
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 415)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.