Font by Mehr Nastaliq Web

یہ نظر آتا ہے دردِ زیست کا حاصل مجھے

بزم اکبرآبادی

یہ نظر آتا ہے دردِ زیست کا حاصل مجھے

بزم اکبرآبادی

MORE BYبزم اکبرآبادی

    یہ نظر آتا ہے دردِ زیست کا حاصل مجھے

    زندگی کردے گی اک دن موت کے قابل مجھے

    موت کے ہاتھوں پیام آیا ہے بزمِؔ ناز سے

    پھر بلاتے ہیں سمجھ کر رونق محفل مجھے

    ان کا جلوہ تھا کہ اقرارِ محبت لے لیا

    ورنہ اس دنیا میں ہوتا ادعائے دل مجھے

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 415)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے