دم میں طے ہوتا ہے رستہ دشتِ وحشتناک کا
دم میں طے ہوتا ہے رستہ دشتِ وحشتناک کا
پاؤں بڑھنے دو ذرا دامن سے آگے چاک کا
میرے آب اشک سے دامن بچانے کے لیے
کشتیوں میں ہے گزارہ آپ کی پوشاک کا
وصل کی شب آگئی کیوں صبح فرقت بے طلب
کام کیا شادی کے گھر میں اس گریباں چاک کا
خشک مغزوں سے کہیں کیا وحشی عالی دماغ
آبلہ دے گا جو اب اس گنبد افلاک کا
کیوں نہ رکھے اپنے سر پر آسماں اے شہوار
ماہِ نو نقشہ ہےنعل تو سن چالاک کا
آبرو جانے نہیں دیتا ہے لڑ بھڑ کر بشر
کشتیاں لڑتا ہے پانی سے یہ پتلا خاک کا
اس غزل میں ہے زمین حضرت ناسخ کا فیض
آسماں پر ہے دماغ آج اپنی مشت خاک کا
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 414)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.