Font by Mehr Nastaliq Web

دم میں طے ہوتا ہے رستہ دشتِ وحشتناک کا

بزم اکبرآبادی

دم میں طے ہوتا ہے رستہ دشتِ وحشتناک کا

بزم اکبرآبادی

MORE BYبزم اکبرآبادی

    دم میں طے ہوتا ہے رستہ دشتِ وحشتناک کا

    پاؤں بڑھنے دو ذرا دامن سے آگے چاک کا

    میرے آب اشک سے دامن بچانے کے لیے

    کشتیوں میں ہے گزارہ آپ کی پوشاک کا

    وصل کی شب آگئی کیوں صبح فرقت بے طلب

    کام کیا شادی کے گھر میں اس گریباں چاک کا

    خشک مغزوں سے کہیں کیا وحشی عالی دماغ

    آبلہ دے گا جو اب اس گنبد افلاک کا

    کیوں نہ رکھے اپنے سر پر آسماں اے شہوار

    ماہِ نو نقشہ ہےنعل تو سن چالاک کا

    آبرو جانے نہیں دیتا ہے لڑ بھڑ کر بشر

    کشتیاں لڑتا ہے پانی سے یہ پتلا خاک کا

    اس غزل میں ہے زمین حضرت ناسخ کا فیض

    آسماں پر ہے دماغ آج اپنی مشت خاک کا

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 414)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے