وہ نہ ہوں تخئیل میں بھی دل کا جب ماتم رہے
وہ نہ ہوں تخئیل میں بھی دل کا جب ماتم رہے
ہم نفس ان کا تصور کیوں شریک غم رہے
دیدنی ہے اختیار گریہ پر یہ صبر و جبر
ہائے وہ آنسو کہ جو آنکھوں میں آکر تھم رہے
تم سراپا حسن ہو پر عشق سے بیگانہ ہو
یہ وہ دنیا ہے کہ اس دنیا میں ہم ہی ہم رہے
دینے والے لذت غم ہی نہ کھو دینا کہیں
دے اور اتنا دے مجھے احساس رنج و غم رہے
فکر رہتی ہے یہی بگڑے نہ ظالم کا بناؤ
ہم کو الجھن ہو تو ہو زلفوں میں پیچ و خم رہے
مسکراتے بزمؔ کی بالیں پہ آ جائیں جو آپ
زندگی کو رشک ہو وہ موت کا عالم رہے
- کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 415)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.