Font by Mehr Nastaliq Web

وہ نہ ہوں تخئیل میں بھی دل کا جب ماتم رہے

بزم اکبرآبادی

وہ نہ ہوں تخئیل میں بھی دل کا جب ماتم رہے

بزم اکبرآبادی

MORE BYبزم اکبرآبادی

    وہ نہ ہوں تخئیل میں بھی دل کا جب ماتم رہے

    ہم نفس ان کا تصور کیوں شریک غم رہے

    دیدنی ہے اختیار گریہ پر یہ صبر و جبر

    ہائے وہ آنسو کہ جو آنکھوں میں آکر تھم رہے

    تم سراپا حسن ہو پر عشق سے بیگانہ ہو

    یہ وہ دنیا ہے کہ اس دنیا میں ہم ہی ہم رہے

    دینے والے لذت غم ہی نہ کھو دینا کہیں

    دے اور اتنا دے مجھے احساس رنج و غم رہے

    فکر رہتی ہے یہی بگڑے نہ ظالم کا بناؤ

    ہم کو الجھن ہو تو ہو زلفوں میں پیچ و خم رہے

    مسکراتے بزمؔ کی بالیں پہ آ جائیں جو آپ

    زندگی کو رشک ہو وہ موت کا عالم رہے

    مأخذ :
    • کتاب : ماہنامہ مشورہ، آگرہ (Pg. 415)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے