تیور چڑھائے اس نے مرا جی دہل گیا
تیور چڑھائے اس نے مرا جی دہل گیا
انکار وصل سن کے کلیجہ نکل گیا
تو پھر گیا تو ساری خدائی پلٹ گئی
تیری نظر کے ساتھ زمانہ بدل گیا
صد شکر دم نکلنے سے پہلے تم آ گئے
حسرت نکل گئی مرا ارماں نکل گیا
چسکا تھا مے کشی کا لڑکپن سے شیخ کو
جب میکدے کے سامنے آیا مچل گیا
پاس ادب ضرور ہے منصور ہوش کر
یہ بے خودی میں منہ سے ترے کیا نکل گیا
اپنی خبر نہیں ہے نہ ہو یہ تو ہوش ہے
ساقی نے جب کہا کہ سنبھل میں سنبھل گیا
للہ کل بھی حضرت بیدمؔ پھر آئیے
آپ آ گئے تو آج مرا جی بہل گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.