Font by Mehr Nastaliq Web

تیور چڑھائے اس نے مرا جی دہل گیا

بیدم شاہ وارثی

تیور چڑھائے اس نے مرا جی دہل گیا

بیدم شاہ وارثی

MORE BYبیدم شاہ وارثی

    تیور چڑھائے اس نے مرا جی دہل گیا

    انکار وصل سن کے کلیجہ نکل گیا

    تو پھر گیا تو ساری خدائی پلٹ گئی

    تیری نظر کے ساتھ زمانہ بدل گیا

    صد شکر دم نکلنے سے پہلے تم آ گئے

    حسرت نکل گئی مرا ارماں نکل گیا

    چسکا تھا مے کشی کا لڑکپن سے شیخ کو

    جب میکدے کے سامنے آیا مچل گیا

    پاس ادب ضرور ہے منصور ہوش کر

    یہ بے خودی میں منہ سے ترے کیا نکل گیا

    اپنی خبر نہیں ہے نہ ہو یہ تو ہوش ہے

    ساقی نے جب کہا کہ سنبھل میں سنبھل گیا

    للہ کل بھی حضرت بیدمؔ پھر آئیے

    آپ آ گئے تو آج مرا جی بہل گیا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے