حلقہ بگوش گیسوئے خم دار ہو گیا
حلقہ بگوش گیسوئے خم دار ہو گیا
یا رب میں کس بلا میں گرفتار ہو گیا
موقوف ایک حضرت منصور پر نہیں
سر جس نے دے دیا وہ ہی سردار ہو گیا
ساقی نے آکے مستوں میں اک دھوم ڈال دی
زاہد کا گھر بھی خانۂ خمار ہو گیا
قاتل تو اپنی تیغ کا صدقہ اتار لے
سر اب تو مجھ کو تن پہ گراں بار ہو گیا
لیجیے نصیب حضرت بیدمؔ کے کھل گئے
سنتے ہیں آج وصل کا اقرار ہو گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.