وہ مہتاب کی آسماں پر نمود
وہ مہتاب کی آسماں پر نمود
مزین کواکب سے چرخِ کبود
وہ کرنوں کی شبنم کے اندر بہار
اڑایا ہے چاندی کا گویا غبار
لرزتی ہے پانی پہ یہ چاندنی
کہ دریا میں بجلی کی ہے روشنی
وہ لہریں کہیں تلملاتی ہوئی
چمک آئینے کی دکھاتی ہوئی
نہیں نام کو بھی کہیں تیرگی
کہ عکسِ تجلی ہے سائے میں بھی
رواں ہے یہ چاروں طرف موجِ نور
کہ اڑتے ہیں دن کی طرح کچھ طیور
شعاعوں کی اللہ رے تیزیاں
قمر کے وہ جوبن کی نو خیزیاں
مگر چھوٹے چھوٹے ستارے ہیں ماند
کہ آج اپنے جلوے میں پورا ہے چاند
شعاعوں کا وہ جگمگانا کہیں
ستاروں کا آنکھیں چرانا کہیں
گرا چھن کے پتوں سے نور قمر
کہ ہیرے کے ٹکڑے پڑے ہیں ادھر
یہ سائے میں اوراق سے نور کے
کہ گل سنگ موسیٰ پہ بلور کے
کہیں چہچہائے ہیں کچھ کچھ طیور
کہیں شور کووں کا ہے دور دور
ستارے جو رہ رہ کے ٹوٹے ادھر
وہ مہتاب کے پھول تھے سر بہ سر
ہوئی چاندنی یہ تجلی فشاں
کہ ہے عالم وجد میں آسماں
صفا بام و در میں سمائی ہوئی
درختوں پہ حیرت سی چھائی ہوئی
یہ کہتا ہے ہر اک شجر کا سکوت
فسبحانہ الذی لا یموت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.