Font by Mehr Nastaliq Web

وہ مہتاب کی آسماں پر نمود

بے نظیر شاہ وارثی

وہ مہتاب کی آسماں پر نمود

بے نظیر شاہ وارثی

MORE BYبے نظیر شاہ وارثی

    وہ مہتاب کی آسماں پر نمود

    مزین کواکب سے چرخ کبود

    وہ کرنوں کی شبنم کے اندر بہار

    اڑایا ہے چاندی کا گویا غبار

    لرزتی ہے پانی پہ یہ چاندنی

    کہ دریا میں بجلی کی ہے روشنی

    وہ لہریں کہیں تلملاتی ہوئی

    چمک آئینے کی دکھاتی ہوئی

    نہیں نام کو بھی کہیں تیرگی

    کہ عکس تجلی ہے ساے میں بھی

    رواں ہے یہ چاروں طرف موج نور

    کہ اڑتے ہیں دن کی طرح کچھ طیور

    شعاعوں کی اللہ رے تیزیاں

    قمر کے وہ جوبن کی نو خیزیاں

    مگر چھوٹے چھوٹے ستارے ہیں ماند

    کہ آج اپنے جلوے میں پورا ہے چاند

    شعاعوں کا وہ جگمگانا کہیں

    ستاروں کا آنکھیں چرانا کہیں

    گرا چھن کے پتوں سے نور قمر

    کہ ہیرے کے ٹکڑے پڑے ہیں ادھر

    یہ ساے میں اوراق سے نور کے

    کہ گل سنگ موسیٰ پہ بلور کے

    کہیں چہچہائے ہیں کچھ کچھ طیور

    کہیں شور کوؤں کا ہے دور دور

    ستارے جو رہ رہ کے ٹوٹے ادھر

    وہ مہتاب کے پھول تھے سر بہ سر

    ہوئی چاندنی پہ تجلی فشاں

    کہ ہے عالم وجد میں آسماں

    صفا بام و در میں سمائی ہوئی

    درختوں پہ حیرت سی چھائی ہوئی

    یہ کہتا ہے ہر اک شجر کا سکوت

    فسبحانہ الذی لا یموت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے