Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

سجدہ گزار صحن حرم بھی معتکف بت خانہ بھی

اسلم سندیلوی

سجدہ گزار صحن حرم بھی معتکف بت خانہ بھی

اسلم سندیلوی

MORE BYاسلم سندیلوی

    سجدہ گزار صحن حرم بھی معتکف بت خانہ بھی

    دل جیسا ہشیار نہ دیکھا دل جیسا دیوانہ بھی

    شوخ نگاہیں تیکھی چتون بیم و رجا کا عالم ہیں

    دل کی دنیا عشق کے ہاتھوں بستی بھی ویرانہ بھی

    ہم نہیں تو کیسی مستی شیشہ کیا پیمانہ کیا

    تشنہ لبوں کے دل کیا ڈوبے ڈوب گیا مے خانہ بھی

    دل کی بھڑکتی آگ کے شعلے اہل جہاں سے کہتے ہیں

    مشعل‌ راہ ہوا کرتا ہے جلتا ہوا کاشانہ بھی

    اے پینے والے امرت کے زہر کے بھی دو گھونٹ سہی

    دنیا والے سنتے جاؤ درد بھرا افسانہ بھی

    گھر کو آگ لگا کرتی ہے گھر کے چراغ سے اے اسلمؔ

    جان رہے ہو جس کو اپنا ہے تو بیگانہ بھی

    مأخذ :
    • کتاب : تذکرہ شعرائے اتر پردیش جلد دسویں (Pg. 40)
    • Author : عرفان عباسی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے