دوستی کا ہو زمانے میں بھروسا کس پر
دوستی کا ہو زمانے میں بھروسا کس پر
تو مجھے چھوڑ چلا اے دلِ شیدا کس پر
یوں تو معشوق گل و شمع بھی کہلاتے ہیں
دیکھنا یہ ہے کہ مرتا ہے زمانا کس پر
امتحان نالہ و دل کا تو دکھادوں لیکن
یہ تو سمجھو کہ فلک ٹوٹ پڑے گا کس پر
اس کی تصویر جو یوسف کے مقابل رکھ دوں
دیکھیے گرتے ہیں پھر اہلِ تماشا کس پر
سامنے غیر کے تم فتنہ مجھے کہتے ہو
چھائی جاتی ہے یہ دیکھو تو سراپا کس پر
کوئی گل باغ میں اس غیرت گل سا تو نہیں
آنکھ پڑتی ہے تری نرگس شہلا کس پر
داغؔ جاتے تو ہیں مقتل میں پر اول سب سے
دیکھیے وار کرے وہ ستم آرا کس پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.