Font by Mehr Nastaliq Web

دوستی کا ہو زمانے میں بھروسا کس پر

داغ دہلوی

دوستی کا ہو زمانے میں بھروسا کس پر

داغ دہلوی

MORE BYداغ دہلوی

    دوستی کا ہو زمانے میں بھروسا کس پر

    تو مجھے چھوڑ چلا اے دلِ شیدا کس پر

    یوں تو معشوق گل و شمع بھی کہلاتے ہیں

    دیکھنا یہ ہے کہ مرتا ہے زمانا کس پر

    امتحان نالہ و دل کا تو دکھادوں لیکن

    یہ تو سمجھو کہ فلک ٹوٹ پڑے گا کس پر

    اس کی تصویر جو یوسف کے مقابل رکھ دوں

    دیکھیے گرتے ہیں پھر اہلِ تماشا کس پر

    سامنے غیر کے تم فتنہ مجھے کہتے ہو

    چھائی جاتی ہے یہ دیکھو تو سراپا کس پر

    کوئی گل باغ میں اس غیرت گل سا تو نہیں

    آنکھ پڑتی ہے تری نرگس شہلا کس پر

    داغؔ جاتے تو ہیں مقتل میں پر اول سب سے

    دیکھیے وار کرے وہ ستم آرا کس پر

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے