بے گنہ ہوں قتل پر میرے نہ تو تلوار کھینچ
بے گنہ ہوں قتل پر میرے نہ تو تلوار کھینچ
خون ناحق لائے گا محشر میں اے خونخوار کھینچ
تو نہ کب تک آئے گا اپنی کشش تو ایک روز
غیر کے پہلو سے لائے گی ضرور اے یار کھینچ
پھر بہار آئی ہے پھر ہے ان دنوں وحشت کا زور
اے جنوں لے چل مجھے پھر جانب کہسار کھینچ
ہائے طاقت ہی نہیں پاؤں میں جاؤں کس طرح
اے مصور نقشۂ دلچسپ کوئے یار کھینچ
نیند جب آتی نہیں ہے وصل کی شب میں مجھے
دل میں آتا ہے کہ لوں میں دیدۂ بیدار کھینچ
دیکھ کر آنکھوں سے پامال خزاں گلزار کو
مر گئی بلبل قفس میں آہیں بس دو چار کھینچ
مجھ پہ یہ اسرار پنہاں فاش ہوتا ہی نہیں
لے لیا سینہ سے دل کو کس طرح اے یار کھینچ
دیر میں میں آپ سے جاتا نہیں ہوں واعظا
مجھ کو لے جاتا ہے و اں عشق بت عیار کھینچ
جل نہ جائے خرمنِ ہستی ترا ڈرتا ہوں میں
دیکھ او بلبل نہ ہر دم آہ آتش بار کھینچ
خون کا اپنے نہیں دعویٰ کروں گا میں کبھی
زیر خنجر شوق سے مجھ کو تو اے خونخوار کھینچ
خوف دوزخ چاہیے دل میں نہ اے فائقؔ ذرا
حشر کے دن لیں گے تجھ کو احمدِ مختار کھینچ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.