Font by Mehr Nastaliq Web

بے گنہ ہوں قتل پر میرے نہ تو تلوار کھینچ

فائق بہاری

بے گنہ ہوں قتل پر میرے نہ تو تلوار کھینچ

فائق بہاری

MORE BYفائق بہاری

    بے گنہ ہوں قتل پر میرے نہ تو تلوار کھینچ

    خون ناحق لائے گا محشر میں اے خونخوار کھینچ

    تو نہ کب تک آئے گا اپنی کشش تو ایک روز

    غیر کے پہلو سے لائے گی ضرور اے یار کھینچ

    پھر بہار آئی ہے پھر ہے ان دنوں وحشت کا زور

    اے جنوں لے چل مجھے پھر جانب کہسار کھینچ

    ہائے طاقت ہی نہیں پاؤں میں جاؤں کس طرح

    اے مصور نقشۂ دلچسپ کوئے یار کھینچ

    نیند جب آتی نہیں ہے وصل کی شب میں مجھے

    دل میں آتا ہے کہ لوں میں دیدۂ بیدار کھینچ

    دیکھ کر آنکھوں سے پامال خزاں گلزار کو

    مر گئی بلبل قفس میں آہیں بس دو چار کھینچ

    مجھ پہ یہ اسرار پنہاں فاش ہوتا ہی نہیں

    لے لیا سینہ سے دل کو کس طرح اے یار کھینچ

    دیر میں میں آپ سے جاتا نہیں ہوں واعظا

    مجھ کو لے جاتا ہے و اں عشق بت عیار کھینچ

    جل نہ جائے خرمنِ ہستی ترا ڈرتا ہوں میں

    دیکھ او بلبل نہ ہر دم آہ آتش بار کھینچ

    خون کا اپنے نہیں دعویٰ کروں گا میں کبھی

    زیر خنجر شوق سے مجھ کو تو اے خونخوار کھینچ

    خوف دوزخ چاہیے دل میں نہ اے فائقؔ ذرا

    حشر کے دن لیں گے تجھ کو احمدِ مختار کھینچ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے