Font by Mehr Nastaliq Web

افلاک سے ٹوٹا ہوا انسان ہوں شاید

فیاض احمد قیصرانی

افلاک سے ٹوٹا ہوا انسان ہوں شاید

فیاض احمد قیصرانی

MORE BYفیاض احمد قیصرانی

    افلاک سے ٹوٹا ہوا انسان ہوں شاید

    مٹی کے لبادوں میں پریشان ہوں شاید

    کوزہ ہوں کہ قطرہ ہوں کہ لہروں کا تسلسل

    میں اپنے خد و خال سے انجان ہوں شاید

    تاریک فضاؤں میں سحر ڈھونڈ رہا ہوں

    خورشیدِ حقیقت کا ثنا خوان ہوں شاید

    رکتا ہوں تو زنجیر سی بجتی ہے لہو میں

    منزل کے تعاقب میں پریشان ہوں شاید

    آنکھوں میں لیے پھرتا ہوں خوابوں کی حقیقت

    اپنے ہی طلسمات میں حیران ہوں شاید

    پنہاں ہے مرے عجز میں افلاک کی رفعت

    میں خاکِ زمیں ہو کے بھی سلطان ہوں شاید

    اک حرفِ ندامت ہے جو آنکھوں میں چھپا ہے

    میں اپنے ہی نالوں سے پشیمان ہوں شاید

    خاموش لبوں پر ہیں کئی حرفِ تمنا

    فیاضؔ میں بکھرا ہوا دیوان ہوں شاید

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے