افلاک سے ٹوٹا ہوا انسان ہوں شاید
افلاک سے ٹوٹا ہوا انسان ہوں شاید
مٹی کے لبادوں میں پریشان ہوں شاید
کوزہ ہوں کہ قطرہ ہوں کہ لہروں کا تسلسل
میں اپنے خد و خال سے انجان ہوں شاید
تاریک فضاؤں میں سحر ڈھونڈ رہا ہوں
خورشیدِ حقیقت کا ثنا خوان ہوں شاید
رکتا ہوں تو زنجیر سی بجتی ہے لہو میں
منزل کے تعاقب میں پریشان ہوں شاید
آنکھوں میں لیے پھرتا ہوں خوابوں کی حقیقت
اپنے ہی طلسمات میں حیران ہوں شاید
پنہاں ہے مرے عجز میں افلاک کی رفعت
میں خاکِ زمیں ہو کے بھی سلطان ہوں شاید
اک حرفِ ندامت ہے جو آنکھوں میں چھپا ہے
میں اپنے ہی نالوں سے پشیمان ہوں شاید
خاموش لبوں پر ہیں کئی حرفِ تمنا
فیاضؔ میں بکھرا ہوا دیوان ہوں شاید
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.