درد حد سے جو بڑھا ہے تو شکایت کی ہے
درد حد سے جو بڑھا ہے تو شکایت کی ہے
ورنہ زخموں پہ ہمیشہ سے قنا عت کی ہے
دل کا جلنا تیرے مئے خانے میں لازم یہ بجا
اب جلی روح تو رندوں نے بغاوت کی ہے
دل کو سمجھایا بہت صبر کی تلقین بھی کی
دل تو پھر دل ہے کہاں اس نے اطا عت کی ہے
ہم نے بیچی نہیں اپنی یہ فقیری اب تک
یوں تو ایک عمر زمانے میں تجارت کی ہے
ہم وہ پیاسے ہیں جو صحرا کو دعا دیتے ہیں
ہم نے تپتی ہوئی ریتوں سے محبت کی ہے
خواب آنکھوں میں سجائے تھے امانت کی طرح
تم نے ہر وقت امانت میں خیانت کی ہے
ہم نے چپ چاپ زمانے سے گزرنا تھا فیاضؔ
وقت نے شور مچانے کی شرارت کی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.