Font by Mehr Nastaliq Web

درد حد سے جو بڑھا ہے تو شکایت کی ہے

فیاض احمد قیصرانی

درد حد سے جو بڑھا ہے تو شکایت کی ہے

فیاض احمد قیصرانی

MORE BYفیاض احمد قیصرانی

    درد حد سے جو بڑھا ہے تو شکایت کی ہے

    ورنہ زخموں پہ ہمیشہ سے قنا عت کی ہے

    دل کا جلنا تیرے مئے خانے میں لازم یہ بجا

    اب جلی روح تو رندوں نے بغاوت کی ہے

    دل کو سمجھایا بہت صبر کی تلقین بھی کی

    دل تو پھر دل ہے کہاں اس نے اطا عت کی ہے

    ہم نے بیچی نہیں اپنی یہ فقیری اب تک

    یوں تو ایک عمر زمانے میں تجارت کی ہے

    ہم وہ پیاسے ہیں جو صحرا کو دعا دیتے ہیں

    ہم نے تپتی ہوئی ریتوں سے محبت کی ہے

    خواب آنکھوں میں سجائے تھے امانت کی طرح

    تم نے ہر وقت امانت میں خیانت کی ہے

    ہم نے چپ چاپ زمانے سے گزرنا تھا فیاضؔ

    وقت نے شور مچانے کی شرارت کی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے