چھپاؤں مرغ دل اپنا کہاں کہاں صیاد
چھپاؤں مرغ دل اپنا کہاں کہاں صیاد
پھرے ہے دام لیے تو جہاں تہاں صیاد
کبھی چمن میں گیا وہ کبھی وہ صحرا میں
رہا ہے فکر میں میرے کہاں کہاں صیاد
کوئی جگہ نہیں چھپنے کی مجھ کو ملتی ہے
تجھی کو پایا گیا میں جہاں جہاں صیاد
اشارہ ابرو کا ہے قتل کو مرے کافی
عبث تو کھینچتا ہے چلہ میں کماں صیاد
میں ہی فقط نہیں مضطر ہوں جور سے تیرے
ہزاروں ہوگئے برباد و بے نشاں صیاد
روا نہ ظلم وستم ہے فقیرؔ پر ہرگز
خدا کے واسطے مجھ پر ہو مہرباں صیاد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.