Font by Mehr Nastaliq Web

چھپاؤں مرغ دل اپنا کہاں کہاں صیاد

فقیر بہاری

چھپاؤں مرغ دل اپنا کہاں کہاں صیاد

فقیر بہاری

MORE BYفقیر بہاری

    چھپاؤں مرغ دل اپنا کہاں کہاں صیاد

    پھرے ہے دام لیے تو جہاں تہاں صیاد

    کبھی چمن میں گیا وہ کبھی وہ صحرا میں

    رہا ہے فکر میں میرے کہاں کہاں صیاد

    کوئی جگہ نہیں چھپنے کی مجھ کو ملتی ہے

    تجھی کو پایا گیا میں جہاں جہاں صیاد

    اشارہ ابرو کا ہے قتل کو مرے کافی

    عبث تو کھینچتا ہے چلہ میں کماں صیاد

    میں ہی فقط نہیں مضطر ہوں جور سے تیرے

    ہزاروں ہوگئے برباد و بے نشاں صیاد

    روا نہ ظلم وستم ہے فقیرؔ پر ہرگز

    خدا کے واسطے مجھ پر ہو مہرباں صیاد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے