عشق مرض بھلا نہیں جس کو ہوا جیا نہیں
عشق مرض بھلا نہیں جس کو ہوا جیا نہیں
ہوش مرے بجا نہیں دیکھیے کیا ہو کیا نہیں
جور و جفا قبول سب ایک یہی ہے قہر اب
غیر کے ساتھ روز و شب اس کے ہم آشنا نہیں
گشت گلی گلی میں ہے دل تیرے جی کی جی میں ہے
خیر ابھی اسی میں ہے تجھ کو کوئی ملا نہیں
قافلہ کر گیا سفر آہ پھرے ہے تو کدھر
جلد خبر لے بے خبر فکر ہے اپنی یا نہیں
کس سے کہے کوئی دلا مرتے ہیں آکے تو جلا
درد ملا تو وہ ملا جس کی کہیں دوا نہیں
جی ہے بتنگ فدویؔ اب کب تئیں رہیے جاں ببلب
دیکھ لیا جہان سب زندگی کا مزا نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.