Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

میں ہوں سر حقیقت لا مکاں ہے خاص گھر میرا

غوثی شاہ

میں ہوں سر حقیقت لا مکاں ہے خاص گھر میرا

غوثی شاہ

میں ہوں سر حقیقت لا مکاں ہے خاص گھر میرا

مگر ہے عشق میں اس وقت پھیرا در بدر میرا

دو عالم ہوں دو عالم میں ہوں دو عالم پہ چھایا ہوں

میں ہر جا ہوں ہر اک صورت ہر اک جا ہے گزر میرا

مرے اجمال کی تفصیل ہے سب دونوں عالم میں

کہیں سورج مرا جلوہ کہیں نقشہ قمر میرا

تماشہ ہوں تماشے میں ہوں اور خود ہوں تماشا گر

میں خود ہی دنگ رہتا ہوں تماشہ دیکھ کر میرا

حقیقت میں حقیقت میری کیا ہے اک حقیقت ہے

ادھر بے چونی ہے نقشہ ہے با چونی ادھر میرا

میں لفظ کن ہوں اور پھر لفظ کن کی خود حقیقت ہوں

میں صوت سرمدی ہوں شور ہے آٹھوں پہر میرا

کوئی آگہ نہیں اسرار سے میرے حقیقت میں

جو دیکھی شکل و صورت نام رکھا ہے بشر میرا

حقایق میں نہیں باتیں مری تقلید کی رو سے

محقق ہوں حقیقت کے بیاں میں ہے ہنر میرا

جسے چشم خدا بیں ہو حقیقت کو مری دیکھے

مصاحب ہوں خدا کا غلغلہ ہے اوج پر میرا

محمدؐ ہوں کہیں شکل عرب میں عین رب ہو کر

کہیں تفصیل میں ہے حال پھر شکل دگر میرا

نہیں ہوں میں نہیں ہوں کچھ نہیں مجھ میں نہیں ہوں میں

جو کچھ ہے بس وہی ہے نام ہے غوثیؔ مگر میرا

مأخذ :

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے