کوٹھے پہ سرِ شام جو آیا وہ حسیں آج
کوٹھے پہ سرِ شام جو آیا وہ حسیں آج
اس شرم سے نکلا ہی نہیں ماہ مبیں آج
ہے خوبیٔ تقدیر گلہ کیجیے کس کا
جو دوست تھے کل آئے ہیں وہ بر سر ِکیں آج
ہیں جوش پہ سیلاب مرے اشک کے بے ڈھب
مسمار نہ دیوار عناصر ہو کہیں آج
ہشیار ہو اے جان و دل و صبر و تحمل
آتا ہے چلا پھر وہی غارت گر دیں آج
بلبل ہیں فدا اس پہ ہزاروں دل و جاں سے
ہے تخت چمن پر جو وہ گل صدر نشیں آج
واللہ نیا طرز نیا نہج ہے تیرا
یہ حق ہے کہ ہے مثل ترا کوئی نہیں آج
کل ہم غم ہجراں سے نہ بیتاب تھے ایسے
کیا ہے جو ہمیں چین ہے اک لحظہ نہیں آج
کل تک تجھے ہم جانتے تھے قول کا سچا
جھوٹے ترے وعدہ کا ہوا مجھ کو یقیں آج
اک آہ شرر بار اگر دل سے کروں میں
سب بھولے ابھی جور و ستم خرچ بریں آج
کس شان سے گھوڑے پہ چلا آتا ہے وہ ترک
اس شوخ سے ہے دیکھئے کیا زینت زیں آج
حاصل ہوا بھی بختؔ تمنا ترے دل کی
دیکھیں جو تجھے نیم نگہ سرور دیں آج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.