مرے نو رسیدہ بت کو جو ہوس شکار کی ہے
دلچسپ معلومات
نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "بت نو رسیدۂ من ہوس شکار دارد" کا اردو منظوم ترجمہ۔
مرے نو رسیدہ بت کو جو ہوس شکار کی ہے
سبھی دل ہیں صید اس کے اسے فکر ہزار کی ہے
پھنسا زلف میں مرا دل جلا حسن سے جگر بھی
مری جان، جان باقی ابھی جاں نثار کی ہے
نہیں تاب مجھ کو دیکھوں جو رقیب روسیہ کو
مرے گل قریب تیرے جو خلش یہ خار کی ہے
مرا سینہ کر کے چھلنی مجھے قتل کر خدا را
وہاں سانس بھی نہ گذرے جو جگہ پیار کی ہے
ہے تیرا اسیر خسرو ذرا دیکھ مردمی سے
مری جان دیکھ حالت جو دلِ فگار کی ہے
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 121)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.